قضیہ حملیہ میں اگر کسی شے کے ثبوت کا حکم ہوتو اسے قضیہ حملیہ موجبہ کہتے ہیں۔ جیسے:
اَلاِنْسَانُ حَیَوَانٌ۔
۲۔ سالبہ:
قضیہ حملیہ میں اگر کسی شے کی نفی کا حکم ہوتواسے قضیہ حملیہ سالبہ کہتے ہیں۔ جیسے
أَلاِنْسَانُ لَیْسَ بِفَرَسٍ۔
حمل کابیان
تعریف:
دوایسی چیزیں جو مفہوم کے اعتبار سے متغائر ہوں ان کو وجود کے اعتبار سے ایک کردینے کا نام حمل ہے ۔ جیسے
زَیدٌ کَاتِبٌ
میں زید کا مفہوم اورہے اور کاتب کا مفہوم اور،مگر ان کو وجود کے اعتبار سے ایک کردیاگیاہے یعنی جو زید ہے وہی کاتب ہے اور جو کاتب ہے وہی زید ہے۔
حمل کی اقسام:
حمل کی دوقسمیں ہیں:
۱۔ حمل بِالْاِشْتِقَاقْ ۲۔ حمل بِالْمُوَاطَاۃ