جن قضایا میں ''حسِ ظاہر'' کی ضرورت ہوتوان قضایا کو'' حسیات ''اور جن میں'' حسِ باطن'' کی ضرورت ہو ا نہیں ''وجدانیات'' کہتے ہیں۔
وہ قضایا بد یہیہ جن کایقین ایسی جماعت کے خبر دینے سے حاصل ہوجن کا جھوٹ پر جمع ہونا عقلا محال ہو۔جیسے سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاروضہ اقدس مدینہ منورہ میں ہے۔
وہ قضایا بدیہیہ جن پر یقین باربار تجربہ کی بنا پر حاصل ہو اہو۔ جیسے ڈسپرین سردرد کیلئے مفید ہے۔
وہ قضایا ئے بدیہیہ جن پر یقین کیلئے حدس بھی درکارہوحدس کا مطلب مبادی مرتبہ کا ذہن پر دفعتہ منکشف ہونا۔مثلا:
ادراک الاصوات بالسامعۃ، ادراک الالوان والاشکال بالباصرۃ۔
آوازوں کا ادراک قوت سماعت سے اور رنگوں اور شکلوں کا ادراک قوت بصارت سے حاصل ہوتاہے ۔