Brailvi Books

نصاب المنطق
138 - 144
۴۔ قیاس شعری:
    وہ قیاس جو قضایامخیلہ سے مرکب ہویعنی جو محض خیالی ہوں خواہ واقعتا سچے ہوں یا جھوٹے۔جیسے: میرا محبوب چاند ہے اور ہر چاند عالم کو روشن کرتاہے لہذا میرامحبوب عالم کوروشن کرتاہے۔
۵۔ قیاس سفسطی:
    وہ قیاس جو مقدمات وہمیہ کاذبہ سے مرکب ہویعنی جو محض وہمی اور جھوٹے ہوں لیکن سچے قضایا کے مشابہ ہوں۔جیسے
العقلُ موجودٌ ۔وکلُّ موجودٍ مشارٌالیہ۔ فالعقلُ مشارٌالیہ۔
اسی طرح انسان کی تصویر دیکھ کرکہنا ، یہ انسان ہے ۔اور ہرانسان ناطق ہے۔ لہذا یہ ناطق ہے۔
قیاس برھانی کی اقسام
    قیاس برھانی کی دوقسمیں ہیں:
۱۔ دلیل لِمِّی        ۲۔ دلیل اِنِّی
۱۔ دلیل لمی:
    جس قیاس میں حدِ اوسط نتیجے کے جاننے کیلئے علت بننے کے ساتھ حقیقت میں بھی نتیجے کیلئے علت ہواسے دلیل لمی کہتے ہیں۔جیسے گھر میں آگ جل رہی ہے۔ جہاں آگ جلتی ہے وہاں دھواں اٹھتاہے ۔پس گھر سے دھواں اٹھ رہاہے۔ اس مثال میں آگ (جو حداوسط ہے) سے ہمیں دھواں کے اٹھنے کا علم ہوا اسی طرح حقیقت میں بھی آگ دھواں کیلئے علت ہے لہذا یہ قیاس دلیلِ لمی ہے۔
Flag Counter