Brailvi Books

نصاب المنطق
137 - 144
سبق نمبر: 46
(۔۔۔۔۔۔مادہ کے اعتبار سے قیاس کی تقسیم ۔۔۔۔۔۔)
اس اعتبارسے قیاس کی پانچ قسمیں ہیں انہیں صناعاتِ خمسہ اور موادِاَقْیِسَہْ بھی کہاجاتاہے:

۱۔ برھانی     ۲۔ جدلی    ۳۔ خطابی    ۴۔ شعری    ۵۔ سفسطی
۱۔ قیاس برھانی:
    وہ قیاس ہے جو مقدمات یقینیہ سے مرکب ہویعنی جویقین کا فائدہ دیتے ہوں۔جیسے:
أَلْعَالَمُ مُتَغَیَّرٌ وَکُلُّ مُتَغَیَّرٍحَادِثٌ فَالْعَالَمُ حَادِثٌ۔
۲۔ قیاس جدلی:
    وہ قیاس ہے جو مقدمات مشہورہ یا مسلمہ سے مرکب ہویعنی جومشہور ہوں یا کسی ایک فریق کے نزدیک مسلّم ہوں ۔جیسے کسی کو بے گناہ قتل کرنا ظلم ہے اورہر ظلم واجب الترک ہے لہذا بے گناہ کو قتل کرنا واجب الترک ہے ۔شراب پینے سے اچھے برے کی تمییز نہیں رہتی ہروہ چیز جس سے اچھے برے میں تمییز نہ رہے اسے ترک کرنا واجب ہے لہذا شراب پینے کو ترک کرنا واجب ہے۔
۳۔ قیاس خطابی:
    وہ قیاس جو مقدمات مقبولہ یا مظنونہ سے مرکب ہویعنی جن کے صحیح ہونے کا غالب گمان ہواور واعظین اپنے وعظوں میں استعمال کرتے ہوں ۔جیسے تجارت نفع بخش ہے اور ہر نفع بخش چیز کو اختیار کرنا چاہیے لہذا تجارت کو اختیار کرنا چاہیے۔
Flag Counter