جس قیاس میں حد اوسط نتیجے کے جاننے کیلئے توعلت بن رہی ہو لیکن حقیقت میں وہ نتیجے کیلئے علت نہ ہو اسے دلیل انی کہتے ہیں۔جیسے گھر سے دھواں اٹھ رہاہے جہاں دھواں اٹھتاہے وہاں آگ جلتی ہے۔ پس گھر میں آگ جل رہی ہے۔ اس مثال میں دھواں(جوحد اوسط ہے) سے ہمیں آگ کے جلنے کا علم ہوا لیکن حقیقت میں دھواں آگ کے جلنے کی علت نہیں بلکہ معاملہ برعکس ہے یعنی آگ کا جلنا دھواں کیلئے علت ہے۔ لہذا یہ قیاس دلیلِ انی ہے۔
اعلی حضرت ،امام اہلسنت، مجدددین وملت،پروانہ شمع رسالت،عاشق ماہ نبوت ، حضرت علامہ ومولاناالشاہ امام احمد رضاخان بریلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :