اصطلاح منطق میں کسی کلی کی اکثر جزئیات کی تفتیش کر کے کسی خاص وصف کا حکم پوری کلی پر لگانا استقراء کہلاتا ہے۔ جیسے ہم نے دیکھا کہ انسان،فرس ،غنم، وغیرہ چباتے وقت نیچے والاجبڑا ہلاتے ہیں توہم نے تمام حیوانوں پر حکم لگا دیا کہ ہرحیوان چباتے وقت نیچے والا جبڑا ہلاتاہے۔
لغوی معنی: تشبیہ دینا،اصطلاحی معنی: وہ حجت ہے جس میں ایک جزئی کاحکم دوسری جزئی میں کسی ''علتِ مشترکہ''کی وجہ سے ثابت کیاجائے۔
ایک جزئی میں کسی خاص علت کی وجہ سے ایک حکم پایاگیا۔وہی علت کسی دوسری جزئی میں نظر آئی تو اس ''علت مشترکہ''کی وجہ سے پہلی جزئی کاحکم دوسری جزئی میں ثابت کردینے کا نام تمثیل ہے۔ جیسے خمرایک جزئی ہے ''علتِ نشہ''کی وجہ سے اسکا حکم حرام