ہوگا ۔
۲۔ اوراگر نقیض تالی کا استثناء کیاگیاہو تونتیجہ عین مقدم ہوگا۔جیسے
ھٰذَالشَّیئُ اِمَّالاَشَجَرٌ أَوْلاَحَجَرٌ لکِنَّہ، لَیْسَ بِلاَحَجَرٍ
اگر قیاس انفصالی کا پہلا مقدمہ مانعۃ الجمع ہو:
تو اس کا بھی دوطرح سے نتیجہ ہوگا:
۱۔ اگر عین مقدم کااستثناء کیاگیا ہوتو نتیجہ نقیض تالی ہوگا۔ جیسے
ھٰذَالشَّیئُ اِمَّا شَجَرٌأَوْحَجَرٌ لکِنَّہ، شَجَرٌ
ہوگا۔
۲۔ اگر عین تالی کا استثناء کیاگیاہوتو نتیجہ نقیض مقدم ہوگا۔جیسے
ھٰذَالشَّیئُ اِمَّا شَجَرٌ أَوْحَجَرٌ لکِنَّہ، حَجَرٌ
سوال نمبر1:۔قیاس کی تعریف و اقسام تحریر کریں۔
سوال نمبر2:۔قیاسِ اتصالی میں نتیجہ نکالنے کا طریقہ تحریر کریں۔
سوال نمبر3:۔قیاسِ انفصالی میں نتیجہ نکالنے کا طریقہ بیان کریں۔