۲۔ اگر نقیض تالی کا استثناء کیا گیا ہوتو نتیجہ نقیض مقدم ہوگا۔ جیسے
اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لکِنَّ النَّھَارَ لَیْسَ بِمَوْجُوْدٍ
أَلشَّمْسُ لَیْسَ بِطَالِعَۃٍ
قیاس انفصالی میں نتیجہ نکالنے کاطریقہ:
جب قیاس کاپہلا قضیہ شرطیہ منفصلہ حقیقیہ ہو تواس کے نتیجہ کی مندرجہ ذیل چار صورتیں ہونگی۔
۱۔ اگر عینِ مقدم کا استثناء کیا گیاہو تونتیجہ نقیض تالی ہو گا۔ جیسے
ھٰذَالْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ لکِنَّہ، زَوْجٌ
ہوگا۔
۲۔ اگر عینِ تالی کا استثناء کیاگیاہو تونتیجہ نقیض مقدم ہو گا۔جیسے
ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہ، فَرْدٌ
ہو گا۔
۳۔ اگر نقیض مقدم کا استثناء کیاگیا ہوتونتیجہ عین تالی ہوگا۔جیسے
ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہ لَیْسَ بِزَوْجٍ
ہوگا۔
۴۔ اگرنقیض تالی کا استثناء کیاگیاہوتو نتیجہ عین مقدم ہوگا۔جیسے
ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہ لَیْسَ بِفَرْدٍ