Brailvi Books

نصاب المنطق
132 - 144
سبق نمبر: 44
(۔۔۔۔۔۔قیاس استثنائی۔۔۔۔۔۔)
    وہ قیاس جس میں نتیجہ یا نتیجہ کی نقیض بعینہ مذکورہو، نیز اس میں حرفِ استثناء بھی مذکور ہو۔
فائدہ:
    اس قیاس میں پہلا قضیہ شرطیہ اوردوسرا حملیہ ہوتاہے۔ جیسے
اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لٰکِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَۃ،ٌ فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ۔
وضاحت:
    اس مثال میں نتیجہ
''فالنھار موجود''
بعینہ قیاس کے مقدمات میں موجود ہے لہذا یہ قیاسِ استثنائی ہے۔
قیاس استثنائی کی اقسام
اس کی دو قسمیں ہیں:    ۱۔اتصالی        ۲۔ انفصالی
۱۔قیاس اتصالی:
    وہ قیاس استثنائی جس کا پہلا مقدمہ شرطیہ متصلہ ہو ۔جیسے
کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لٰکِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَۃ نتیجہ اَلنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ۔
۲۔ قیاس انفصالی:
    وہ قیاس استثنائی جس کا پہلا مقدمہ شرطیہ منفصلہ ہو۔جیسے
ھٰذَالْعَدَدُ اِمَّازَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لٰکِنَّہ، زَوْجٌ ۔
نتیجہ
ھٰذَالْعَدَدُ لَیْسَ بِفَرْدٍ۔
Flag Counter