''ھُوَقَوْلٌ مُؤَلَّفٌ مِنْ قَضَایَا یَلْزَمُ عَنْھَا قَوْلٌ ٰاخَرُبَعْدَ تَسْلِیْمِ تِلْکَ الْقَضَایَا''
قیاس اس قول کو کہتے ہیں جو چند ایسے قضایا سے مرکب ہو کہ ان کو تسلیم کرنے کے بعد ایک اورقضیہ ماننا لازم آئے ۔جیسا کہ ہر سنی مومن ہے اور ہر مومن نجات پانے والا ہے ان دونوں کوتسلیم کر لینے کے بعد ہمیں ماننا پڑتاہے کہ ہر سنی نجات پانے والا ہے۔قیاس کی اقسام کا تفصیلی بیان آگے آئے گا اس سے پہلے چند ضروری اصطلاحات کو بیان کیا جاتا ہے ۔
قیاس سے متعلقہ چند ضروری اصطلاحات
جن قضایا سے قیاس مرکب ہوتاہے انہیں مقدماتِ قیاس کہا جاتاہے۔ جیسے
أَلْعَالَمُ مُتَغَیِّرٌ وَکُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ۔