زَیْدٌ لَیْسَ بِأَخِی خَالِدٍ
زَیْدٌ لَیْسَ بِأَخِی بَکْرٍ
دونوں قضیے جزوکل میں برابرہوں یعنی اگر پہلے قضیہ میں محمول کا حکم کل پر ہے تودوسرے میں بھی کل پر ہوگا اوراگر پہلے میں جز پر ہے تودوسرے میں بھی جزپر ہو۔ ورنہ تناقض متحقق نہیں ہوگا۔جیسے
زَیْدٌ أَسْوَدُ أَیْ کُلُّہ،
زَیْدٌ لَیْسَ بِأَسْوَدَ أَیْ اَسْنَانِہٖ
دونوں قضیے قوت وفعل میں برابر ہوں یعنی اگرایک قضیہ میں محمول موضوع کیلئے بالفعل ثابت ہے تو دوسرے میں نفی بھی بالفعل ہی ہو۔اوراگر ایک قضیہ میں بالقوۃ ثابت ہے تودوسرے میں نفی بھی بالقوہ ہی ہو ورنہ تناقض نہ ہوگا۔جیسے
زَیْدٌ ضَاحِکٌ بِالْفِعْلِ
زَیْدٌ لَیْسَ بِضَاحِکٍ بِالْفِعْلِ
زَیْدٌ ضَاحِکٌ بِالْقُوَّۃِ
زَیْدٌ لَیْسَ بِضَاحِکٍ بِالْفِعْلِ
واضح رہے کہ بالقوۃ سے مراد یہ ہے کہ کام کرنے کی صلاحیت ہو لیکن اس وقت نہ