Brailvi Books

نصاب المنطق
106 - 144
۶۔ اضافت میں وحدت:
    دونوں قضیے اضافت میں متفق ہوں یعنی پہلے قضیہ میں محمول کی نسبت جس شی کی طرف ہواسی کی طرف دوسرے قضیہ میں بھی ہوورنہ تناقض نہیں پایا جائے گا۔جیسے
زَیْدٌ أَخُوْخَالِدٍ
اور
زَیْدٌ لَیْسَ بِأَخِی خَالِدٍ
میں توتناقض ہے لیکن
زَیْدٌ أَخُوْ خَالِدٍ
اور
زَیْدٌ لَیْسَ بِأَخِی بَکْرٍ
میں تناقض نہیں۔
۷۔جزوکل میں وحدت:
    دونوں قضیے جزوکل میں برابرہوں یعنی اگر پہلے قضیہ میں محمول کا حکم کل پر ہے تودوسرے میں بھی کل پر ہوگا اوراگر پہلے میں جز پر ہے تودوسرے میں بھی جزپر ہو۔ ورنہ تناقض متحقق نہیں ہوگا۔جیسے
زَیْدٌ أَسْوَدُ
اور
زَیْدٌ لَیْسَ بِأَسْوَدَ
میں تناقض ہے لیکن
زَیْدٌ أَسْوَدُ أَیْ کُلُّہ،
اور
زَیْدٌ لَیْسَ بِأَسْوَدَ أَیْ اَسْنَانِہٖ
میں تناقض نہیں۔
۸۔ قوت وفعل میں وحدت:
    دونوں قضیے قوت وفعل میں برابر ہوں یعنی اگرایک قضیہ میں محمول موضوع کیلئے بالفعل ثابت ہے تو دوسرے میں نفی بھی بالفعل ہی ہو۔اوراگر ایک قضیہ میں بالقوۃ ثابت ہے تودوسرے میں نفی بھی بالقوہ ہی ہو ورنہ تناقض نہ ہوگا۔جیسے
زَیْدٌ ضَاحِکٌ بِالْفِعْلِ
اور
زَیْدٌ لَیْسَ بِضَاحِکٍ بِالْفِعْلِ
میں تو تناقض ہے۔لیکن
زَیْدٌ ضَاحِکٌ بِالْقُوَّۃِ
اور
زَیْدٌ لَیْسَ بِضَاحِکٍ بِالْفِعْلِ
میں تناقض نہیں ۔
نوٹ:
   واضح رہے کہ بالقوۃ سے مراد یہ ہے کہ کام کرنے کی صلاحیت ہو لیکن اس وقت نہ
Flag Counter