Brailvi Books

نصاب المنطق
101 - 144
وضاحت:
    اس قضیہ میں اسود اورکاتب ایسے مقدم اورتالی ہیں کہ ان میں ذاتی لحاظ سے کوئی جدائی نہیں لیکن یہاں انفصال (جدائی ) اتفاقی ہے۔ کیونکہ ہوسکتاہے کوئی شخص کاتب بھی ہو اور کالا بھی ہو۔لہذایہ جدائی ذاتی نہیں اتفاقی ہے۔
۲۔صدق وکذب کے اعتبار سے قضیہ شرطیہ منفصلہ کی اقسام
    صدق وکذب کے اعتبار سے قضیہ شرطیہ منفصلہ کی تین قسمیں ہیں:

۱۔ حقیقیہ     ۲۔ مانعۃ الجمع        ۳۔ مانعۃ الخلو
قضیہ منفصلہ حقیقیہ:
    وہ قضیہ جس میں مقدم اور تالی کے درمیان منافات(جدائی) یا عدم منافات صدقا وکذبا دونوں اعتبار سے ہو ۔جیسے
ھٰذَا العَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ
 ( یہ عددیا تو جفت ہے یاطاق)۔
وضاحت:
     صدقاکا معنی یہ ہے کہ مقدم اور تالی ایک شے میں بیک وقت جمع نہ ہوسکیں اور کذبا کا معنی یہ ہے کہ مقدم اور تالی ایک شے سے بیک وقت جدانہ ہوسکیں ۔ جیسے مذکورہ مثال میں طاق وجفت ایسے مقدم اور تالی ہیں کہ یہ دونوں ایک ساتھ کسی عدد میں نہ تو جمع ہوسکتے ہیں اورنہ ہی جداہوسکتے ہیں ،کیونکہ ہر عدد یاتوجفت ہوگا یاطاق، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی عدد نہ تو جفت اور نہ ہی طاق اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ کوئی عدد جفت بھی ہواورطاق بھی۔
Flag Counter