Brailvi Books

نصاب المنطق
102 - 144
۲۔ مانعۃ الجمع:
    وہ قضیہ جس میں مقدم اور تالی کے درمیان منافات(جدائی)یا عدم منافات صرف صدقا ہو۔یعنی مقدم اورتالی کسی ایک شی میں جمع نہ ہوسکتے ہوں ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ مقدم اورتالی میں سے کوئی بھی نہ پایاجائے۔ جیسے
ذَالِکَ الْحَیَوَانُ اِمَّا شَاۃٌ أَوْ ظَبْیٌ
 ( یہ جانور یا بکری ہے یاہرن ہے) ۔
وضاحت:
    اس مثال میں شاۃ (بکری )اورظبی (ہرن) ایسے مقدم اورتالی ہیں کہ یہ دونوں ایک شے میں جمع نہیں ہوسکتے یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی جانوربکری بھی ہواور ہرن بھی ہاں یہ ممکن ہے کہ وہ جانور نہ بکری ہو نہ ہرن بلکہ کوئی اورجانور ہو۔ جیسے شیر وغیرہ۔
۳۔مانعۃ الخلو:
    وہ قضیہ جس میں مقدم اور تالی کے درمیان جدائی یا عدم جدائی صرف کذبا ہو۔ یعنی یہ دونوں کسی شے سے ایک ساتھ جدانہ ہوسکتے ہو ں ہاں یہ ممکن ہے کہ دونوں ایک ساتھ جمع ہو جائیں۔
زَیْدٌ اِمَّا فِی الْمَاءِ أَوْلاَ یَغْرُقُ
 (زید یاتو پانی میں ہوگا یا ڈوب نہیں رہا ہوگا)۔
وضاحت:
    اس مثال میں پانی میں ہونا اورنہ ڈوبنا ایسے مقدم اورتالی ہیں کہ یہ دونوں بیک وقت زید سے جد ا نہیں ہوسکتے یعنی ایسا نہیں ہوسکتاکہ زید پانی میں بھی نہ ہواور ڈوب بھی رہا ہو ہاں ان دونوں کاجمع ہونا ممکن ہے کہ زیدپانی میں بھی ہو اورڈوب نہ رہا ہو کیونکہ ہوسکتاہو وہ تیر رہاہو۔
٭٭٭٭٭
Flag Counter