مثلاً ظہر کے درس کے بارے میں مشورہ لیتے ہوئے یوں کہے ،''آصف بھائی مشورہ دیجئے کہ ظہر کا درس کس سے کروایا جائے؟''اس کے جواب میں آصف بھائی یوں کہیں کہ'' میرا ناقص مشورہ ہے کہ ظہر کا درس شاہد بھائی سے کروایا جائے، آگے جیسے آپ کی مرضی؟ ''پھر امیر قافلہ پوچھیں ،''عصر کا اعلان کس سے کروایا جائے؟ ''تو قاسم بھائی جواب دیں کہ،'' میرا ناقص مشورہ ہے کہ عصر کا اعلان اقبال بھائی سے کروالیا جائے، آگے جیسے آپ کی مرضی ۔'''' عصر کا بیان کس سے کروایا جائے؟''امیر قافلہ پوچھے تو ہاشم بھائی جواب دیں کہ'' میرا ناقص مشورہ ہے کہ عصر کا بیان حیدر بھائی سے کروایا جائے ،آگے آپ کی مرضی۔''اسی طرح ہر ایک سے یکے بعد دیگرے مشورہ لیا جائے کہ'' مغرب کا اعلان کس سے کروایا جائے ؟''،''مغرب کا بیان کس سے کروایا جائے ؟'' عشاء کا درس ؟ فجر کا اعلان؟فجر کا بیان؟ وغیرہ ''اور مشورہ دینے والا اسلامی بھائی اپنے مشورہ کے بارے میں بطورِ عاجزی بار بار ناقص مشورہ کا لفظ استعمال کرے۔ جس اسلامی بھائی کو ذمہ داری دینے کے بارے میں مشورہ دیا جائے، وہ ''ان شآء اللہ عزوجل'' کہے جبکہ دیگر اسلامی بھائی ہر مرتبہ مشورہ دینے پر (ذکر اللہ عزوجل کی نیت سے )سبحان اللہ عزوجل ضرور کہیں ۔ اس طرح مشورہ دینے والے کی حوصلہ افزائی بھی ہوجائے گی