کی بات ہے اور اگر رد کر دیا گیا تو دل رنجیدہ نہیں ہوگا۔مثلاً ایک پنکھا جو کہ ناقص ہے اور ہم اس کو قابل سمجھ کر چلانے کی کوشش کریں اور وہ نہ چلے تو ہمیں افسوس ہوگا ،کیونکہ ہم نے اسے بالکل ٹھیک سمجھا۔ لیکن اگر ہم اس پنکھے کو ناقص سمجھ کر چلانے کی کوشش کرتے اوروہ چل جاتا تو ہمیں خوشی ہوتی ،لیکن اگر نہ چل پاتا تو ہم غم زدہ نہ ہوتے۔
اس طریقے پرعمل کی برکت سے تمام امور بخوبی طے پائیں گے اورشرکائے قافلہ کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی ۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ''کوئی قوم جب بھی آپس میں مشورہ کرتی ہے اللہ تعالیٰ اسے ان کی افضل رائے کی طرف ہدایت دے دیتاہے ''۔