٭ مشورہ لینا اور دینا دونوں سنت ہیں ،لہٰذا تمام اسلامی بھائی سنت پر عمل کی بھی نیت کر لیں۔
٭مدنی مشورے میں تمام شرکائے قافلہ کی شرکت کو یقینی بنائيے۔
٭مدنی مشورے کا آغاز وقت پر کردیجئے۔
٭مدنی مشورہ عام فہم زبان میں کیجئے۔
٭شرکاء کو گفتگو میں شریک رکھئے۔
٭حکمت وشفقت سے نظم وضبط اور ماحول کی سنجیدگی کو یقینی بنائيے۔
٭آمرانہ انداز سے اجتناب کیجئے اور ایسا انداز اختیار فرمائيے کہ شرکاء اسلامی بھائیوں میں اعتماد پیدا ہو اور اجنبیت وخوف کی کیفیت جاتی رہے ۔اس سے اسلامی بھائیوں کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں گی ۔
٭اپنا عندیہ قبل از وقت بیان نہ کیجئے ، کہ ایسا کرنے سے شاید آپ شرکاء کی رائے سے محروم ہوجائیں۔ایسا بھی ہوسکتاہے کہ کوئی اسلامی بھائی اتنی پیاری رائے دے کہ آپ اپنا عندیہ بدلنے پر مجبور ہوجائیں ۔اگر آپ نے پہلے ہی سے اپنا ذہن دے دیا تو پھر اچھی رائے قبول کرنے میں ''انا''رکاوٹ بن سکتی ہے ۔
٭شرکائے مدنی مشورہ کے حفظ ِ مراتب اور عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے سب کی رائے سنیئے ۔اس سے شرکاء کے حوصلے بڑھیں گے اور اعتماد بحال رہے گا ۔
٭مخصوص کردہ نکات پر ہی گفتگو کیجئے اور خلط مبحث سے بچئے۔
٭پہلے تمام شرکائے قافلہ کا یہ ذہن بنایا جائے کہ مشورہ دینے والے کو چاہے کہ اپنے مشورہ کو ناقص سمجھے،اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر اس کا مشورہ قبول کرلیا گیا تو خوشی