| نصابِ مدنی قافلہ |
لہٰذا ! 9:30بجے تلاوت و نعت سے جدول کا آغاز کردیجئے،جس کا دورانیہ ۵ منٹ سے کم یا زیادہ نہ ہو تاکہ سننے والوں میں نشاط باقی رہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس کے بعد امیر قافلہ مشورے کا حلقہ شروع کرے۔ مشورے کا حلقہ جدول کے مطابق 10:15بجے تک جاری رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ 6یا 7اسلامی بھائیوں سے مشور ہ کرنے کے لئے40منٹ کا حلقہ کیوں رکھا گیا؟ جب کہ دس سے پندرہ منٹ میں بھی مشورہ ممکن ہے۔تو یاد رکھئے کہ پہلے پہل وقت کم ہونے کی وجہ سے قافلوں میں عموماً ضمنی طور پر مشورہ کیا جاتا تھا مثلاً
۱)کبھی تو قافلے میں تو صرف کھانا بنانے کا مشورہ ہورہا ہوتا تھا۔ مثلاً امیر قافلہ نے پوچھا کہ'' آج کیا پکانا چاہے؟''تو ایک اسلامی بھائی نے جواب دیا'' کدّو شریف۔'' دوسرے نے کہا '' دال۔'' تیسرے نے کہا ''نہیں ،آج توآلو گوشت ہی پکائیں۔'' بس اسی موضوع پر آپس میں بحث شروع ہوگئی اور مشورے کا سارا وقت اسی میں گزر گیا۔
۲)اور کبھی تو مشورہ بھی نہیں ہوتا تھا بلکہ محض یہ کہہ دیا جاتا تھا کہ آپ فلاں کام کرلینا ، آپ سبزی لے آنا ، آپ درس دے دینا،وغیرہ۔'' اور مشورے کا حلقہ ختم۔
پیارے اسلامی بھائیو!اس طرح پہلے دن سے ہی شرکائے قافلہ کے درمیان بدگمانیاں اور ناراضگیاں جنم لے لیتی تھیں۔ نیز باصلاحیت اور اچھا کام کرنے والے اسلامی بھائی سامنے نہ آپاتے اور نہ کسی میں معلم یا مبلغ بننے کا شوق پیدا ہوتا۔ دن بھر کے معاملات کا کسی کو علم نہ ہوتاکہ کس وقت کیا کرنا ہے؟کیا پکانا ہے ؟ کب پکانا ہے؟