| نصابِ مدنی قافلہ |
اپنا مدنی مقصدہر ملک،ہر شہر، ہر گاؤں ،ہر مسجد ،ہر گھر میں رہنے والے تمام افراد تک بآسانی پہنچا سکتے ہیں ۔ مدنی قافلوں کی اس اہمیت کے پیش ِ نظر ہمیں یہ غور کرنا چاہے کہ جس مدنی قافلہ کو تیار کرنے میں ہم نے اپنے علاقے، اپنے حلقے یا مسجد میں بھر پور کوششیں کیں ،کیا یہ مدنی قافلہ اس مقصد کے تحت سفر بھی کررہا ہے یا نہیں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ شرکائے قافلہ نے سوائے وقت گزاری کے کوئی اور کام نہ کیا ہو ؟ جبکہ ہم یہی سمجھتے رہے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ؟یاد رکھئے ! مدنی قافلہ تیار کرنے کے بعد اسے مدنی مرکز کی دی گئی ہدایات کے مطابق سفر کروانا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔
یہ بات ایک مثال سے بخوبی سمجھی جاسکتی ہے ،''اگرکوئی دکاندار بڑی محنت و مشقت کے بعد کثیر مال خرچ کرکے ایک سجی سجائی دکان بنائے۔لیکن دکان بنا لینے کے بعد سامان فروخت کرنے کے لئے نہ بیٹھے تواس دکان سے نفع حاصل ہونا ایک ایساخواب ہے جس کی تعبیر جاگتی آنکھوں سے دیکھنا ممکن نہیں۔ الحاصل! محض دکان بنالینا ہی کمال نہیں بلکہ اس کے مقصد یعنی نفع کے حصول کے لئے کوئی عملی کوشش کرنا اصل کام ہے ،اسی طرح محض مدنی قافلہ تیار کرلینا ہی کمال کی بات نہیں بلکہ قافلہ تیار کرنے کے بعد اس مدنی سفر سے برکتیں حاصل کرنا بھی ہمارے پیش ِ نظر ہونا چاہے۔
امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:"اگر کسی کو اجتماع میں لانا دعوت اسلامی کا کام ہے تو لانے کے بعد اس کا مدنی ذہن بنانے کے لئے اس پر بھر پور انفرادی کوشش کرنا اس مدنی کام کی جان ہے۔اسی طرح مدنی قافلہ کے لئے کسی کو تیار کرنا اگر کام ہے تو سفر کروانے پر بھر پور توجہ دینا اوربالآخر اُس کو مدنی قافلے کا مسافر بنا دینا مدنی کام کی جان ہے۔ ''