Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
37 - 197
۴۰۔    مَنْ طَلَبِ الْعِلْمَ تَکَفَّلَ اللہُ لَہٗ بِرِزْقِہٖ
جو شخص علم کی طلب میں رہتاہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق کا ضامن ہے۔
 (کنز العُمّال ج۱۰ ص۱۳۹ بیروت )
۴۱۔    افضل عبادت دین کے مسائل سیکھنا ہے اورافضل دین شبہات سے بچنا ہے۔
            (الترغیب والترھیب ج۱ص ۵۰ مکتبہ روضۃ القرآن پشاور)
۴۲۔    علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیادہ ہے ۔تمہارا اچھا دین شبہات سے بچنا ہے ۔
 (الترغیب والترھیب ج۱ص ۵۰ مکتبہ روضۃ القرآن پشاور)
۴۳۔    تھوڑا سا علم کثیر عبادت سے اچھا ہے ۔
            (الترغیب والترھیب ج۱ص ۵۰ مکتبہ روضۃ القرآن پشاور)
۴۴۔    علم حاصل کرو کیونکہ اللہ کے لیے علم حاصل کرنا اس سے ڈرنا ہے ۔ اس کو طلب کرنا عبادت ہے ۔ مذاکرہ کرنا تسبیح ہے ، اس سے بحث کرنا جہاد ہے، جو نہیں جانتا اسے سکھانا صدقہ ہے ۔
 (الترغیب والترھیب ج۱ص ۵۲ مکتبہ روضۃ القرآن پشاور)
۴۵۔    طالبِ علم کو اس حال میں موت آئی کہ وہ طلْبِ علم میں مصروف تھا تو وہ شہید ہے۔
 (الترغیب والترھیب ج۱ص ۵۴ مکتبہ روضۃ القرآن پشاور)
۴۶۔    جس نے علم کے ایک باب کو اس لیے سیکھا کہ لوگوں کو اس کی تعلیم دے گا تو اُسے ستر صدیقین کا ثواب دیا جائے گا۔
        (الترغیب والترھیب ج۱ص ۵۴ مکتبہ روضۃ القرآن پشاور)
۴۷۔    افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان شخص علم حاصل کرے پھر مسلمان بھائی کو اس کی تعلیم دے ۔
 (الترغیب والترھیب ج۱ص ۵۴ مکتبہ روضۃ القرآن پشاور)
۴۸۔    جس نے علم سکھایا اس کے لیے اس عمل کا اجر ہے جو اس علم کی وجہ سے کیا گیا
Flag Counter