Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
35 - 197
اوربے شک میں معلِّم بنا کر بھیجا گیا ہوں ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں تشریف فرما ہوئے ۔''
            (سنن ابن ماجہ ص۲۲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
٭    معلوم ہوا علم سیکھنا سکھانا قرآن کی تلاوت اور دعا سے افضل ہے ۔
۳۰۔    کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بھلائی کے پھیلنے اوربرائی کوروکنے کا ذریعہ ہوتے ہیں اورکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو برائی پھیلنے اوربھلائی میں رکاوٹ کا ذریعہ ہوتے ہیں سومبارک ہے ان لوگوں کے لیے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خیر کے پھیلنے کا ذریعہ بنایا اورہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو برائی پھیلنے کا سبب ہوگئے ۔
                (سنن ابن ماجہ ص۲۱ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۳۱۔    عنقریب علم حاصل کرنے کے لیے تمھارے پاس لوگ آئیں گے جب تم ان کو دیکھو تو مرحبا مرحبا کہو اورانہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کروکہ وہ علم ذخیرہ کریں ۔
 (سنن ابن ماجہ ص۲۲قدیمی کتب خانہ کراچی)
۳۲۔    کسی مسلمان کا دل تین باتوں میں کوتاہی نہیں کرتا (۱)خالص اللہ کے لیے عمل کرنا(۲)ہرمسلمان کے لیے خیر خواہی کرنا (۳)مسلمان کی جماعت کو لازم پکڑنا کیونکہ ان کی دعا دوسروں کو گھیرے ہوتی ہے (یعنی دوسروں کو شیطان کے فریب سے محفوظ رکھتی ہے)۔
 (سنن دارمی ج۱ ص ۸۷ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۳۴۔    دو حریص (ہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنے والے )سَیر نہیں ہوتے ۔(۱)علم کا طلب کرنے والا (۲)دنیا کا طلب کرنے والا۔
            (سنن دارمی ج۱ ص ۱۰۸ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۳۵۔    جو علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستہ پر چلا اللہ تعالیٰ اس راستہ کی برکت سے
Flag Counter