Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
34 - 197
نماز پڑھنے سے اچھا ہے خواہ اس پر عمل ہویا نہ ہو۔
            (سنن ابن ماجہ ص۲۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۲۵۔    طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
   (سنن ابن ماجہ ص۲۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۲۶۔    جو اپنے گھرسے طلبِ علم کے لئے چلا فرشتے اس کے عمل سے راضی ہوکر اس کے لیے اپنے پربچھا دیتے ہیں ۔
 (سنن ابن ماجہ ص۲۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۲۷۔    جو شخص میری مسجد میں علم سیکھنے یا سکھانے کے لیے گیا وہ بھلائی کے ساتھ ہی لوٹے گا۔
(سنن ابن ماجہ ص۲۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۲۸۔    مومن کو اس کے عمل اورنیکیوں سے مرنے کے بعد بھی یہ چیزیں پہنچتی رہتی ہیں۔(۱)علم جس کی اس نے تعلیم دی اوراشاعت کی (۲) اولادِ صالح جسے چھوڑ کر مرا ہے (۳) مصحف (قرآن مجید) جسے میراث میں چھوڑا (۴)مسجد بنائی (۵)مسافر کے لیے مکان بنادیا (۶)لوگوں کے لیے نہر جاری کردی (۷)اپنی صحت اورزندگی میں اپنے مال میں سے صدقہ نکال دیاجو اس کے مرنے کے بعد اُس کو ملے گا۔
            (سنن ابن ماجہ ص۲۲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۲۹۔    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بارحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارکہ سے مسجد میں تشریف لائے تو دو حلقے سجے ہوئے تھے ایک قرآن مجید پڑھ رہا تھا اوراللہ سے دعا مانگ رہا تھا جبکہ دوسراعلم سیکھنے سکھانے میں مشغول تھا فرمایا : ''دونوں بھلائی پر ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی تلاوت اوراللہ سے دعا کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں عطا کرے یا نہ کرے اوریہ لوگ علم سیکھنے سکھانے میں مشغول ہیں
Flag Counter