۱۴۔ اللہ تعالیٰ اوراس کے فرشتے اورتمام آسمان وزمین والے یہاں تک کہ چِیُونٹیاں اپنے سوراخوں او رمچھلیاں سمندر میں اس کی بھلائی کی دعا کرتی ہيں جو لوگوں کو اچھی چیز کی تعلیم دیتاہے ۔
(جامع ترمذی ج۲ ص۹۳ فاروقی کتب خانہ ملتان )
۱۵۔ مومن کبھی خیر یعنی علم سے سَیر نہیں ہوتا یہاں تک اس کا مُنْتَہا(یعنی ٹھکانہ) جنت ہوتاہے ۔
(جامع ترمذی ج۲ ص۹۳ فاروقی کتب خانہ ملتان )
۱۶۔ ''اَلْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ فحَیْثُ وَجَدَھَا ھُوَ اَحَقُّ بِھَا''
اچھی اوردینی بات مومن کی اپنی گم شدہ چیز ہے جہاں پائے وہی اس کا حق دار ہے۔ یعنی جس طرح گم شدہ چیز کی تلاش کی جاتی ہے، مومن علمی بات کی تلاش میں ہوتاہے۔
(جامع ترمذی ج۲ ص۹۳ فاروقی کتب خانہ ملتان )
۱۷۔ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بہت زیادہ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے دین میں سمجھ عطا فرماتا ہے ۔
اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللہُ یُعْطِیْ
میں تو بانٹنے والا ہوں اوراللہ دیتاہے۔
(صحیح البخاری ج۱ ص۱۶ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
۱۸۔ صرف دو چیزوں پر رشک کرنا اچھا ہے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہواوروہ اس کو نیکی کے راستہ میں خرچ کرتاہو اوردوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے دین کا علم عطا فرمایا اوروہ اس کے مطابق فیصلے کرتا اوردوسروں کو یہ علم سکھاتا ہو۔
(صحیح البخاری ج۱ ص۱۷ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )