| نصابِ مدنی قافلہ |
ان پر انفرادی کوشش ۔۔۔۔۔۔ مدینہ۲: ہم میں سے ہر ایک کو چاہيے کہ مدنی قافلے تیار کرنے کا ذہن بناتے ہوئے حکمت عملی کے ذریعے ہر ایک اسلامی بھائی تک مدنی قافلے کی دعوت پہنچانے کی کوشش کریں ۔
مدینہ۳: جب ،جس سے ،جہاں اور جس لئے بھی ملاقات ہو۔ ملاقات کے اختتام پر حق ِصحبت ادا کرنے کی نیت سے مدنی قافلے کی دعوت ضرور دیں کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''جس کسی نے کسی کی صحبت اختیار کی اگرچہ لمحہ بھرکے لیے ہو، بروزَ قیامت سوال ہوگا کہ حق صحبت ادا کیا تھا یا ضائع ۔''
(احیاء العلوم مع اتحاف ج۷ ص ۸۲ دارالکتب العلمیہ بیروت)
اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہم جس جس اسلامی بھائی کو حکمت عملی سے بار بار مدنی قافلوں میں سفر کی دعوت دیتے رہیں گے تو یہ دعوت کانوں کے راستے اس کے دل پر نقش ہوجائے گی۔ کیونکہ عربی مقولہ ہے ،''اِذَا کَرَّرَ تَقَرَّرَ۔جب کوئی بات باربار کہی جائے تو وہ دل میں قرار پکڑ لیتی ہے ۔'' جس طرح عطر کی لمحہ بھر کی صحبت بھی انسان کو خوشبوکا احساس دلاتی ہے اور پھول کا مٹی کے ساتھ رہنا مٹی کو خوشبودار کر دیتا ہے،بالکل اسی طرح ہماری مختصر صحبت بھی اسلامی بھائی کو یہ احساس دلائے کہ ''مجھے مدنی قافلوں کا مسافر بننا چاہيے ۔''
مدینہ۴ : یہ دعوت مدنی قافلوں کے تعارف،راہِ خدا عزوجل میں سفر کے فضائل اور مدنی قافلے کا مسافر بننے کے لئے بھر پور ترغیبی کلمات پر مشتمل ہونی چاہيے۔پھر آخر میں مدنی قافلے میں سفر کرنے کی نیت کروانا اور اس کا نام وپتہ لکھنا نہ بھولئے۔