ہاتھ میں ستار لئے جارہا تھا۔ ایک عالم باعمل نے یہ منظر دیکھا تو ایک دم نیکی کی دعوت پیش کرنے کا عظیم جذبہ سینے میں بیدار ہوگیاغضب و جلال میں بے قرار ہوکر دوڑ پڑے اور غلام کے ہاتھ سے ستار چھین کر زمین پر اسطرح پٹخ دیا کہ وہ چور چور ہوکر بکھر گیا۔عباس نے غضب ناک ہوکر اپنے باپ احمد بن طولون کی کچہری میں اس حقانی عالم رحمۃ اللہ علیہ پر مقدمہ دائر کردیا جب یہ پیکر ِ علم وعمل کچہری میں پہنچا تو احمد بن طولون نے سوال کیا، کیا واقعی تم نے ستار کو توڑا ہے ؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جی ہاں ! احمد بن طولون نے تیور بدل کر بڑے غصے میں پوچھا ، کیا تمہیں علم تھاکہ وہ ستا رکس کا ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جی ہاں ! وہ آپ ہی کے فرزند عباس کا تھا۔ احمد بن طولون نے پوچھا کہ پھر بھی تم نے میرے اعزاز کا کچھ بھی خیال نہیں رکھا؟ عالم صاحب نے نہایت ہی بے خوفی کے ساتھ جواب دیا عالیجاہ ! یہ کیوں کر ممکن ہو سکتاہے؟ کہ میں ایک گناہ ہوتے ہوئے دیکھوں ، اور آپ کے اعزاز کے خوف سے خاموش رہوں ۔ جبکہ اللہ عزوجل کا فرمان عالیشان ہے :
ترجمہ کنزالایمان : اور مسلمان مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں ۔ (پ ، ۱۰، ع ۱۵)