الحمد للہ عزوجل صحابۂ کرام اور بزرگان دین رضی اللہ عنہم نے اس کام کو احسن طریقے سے کیاہے اور نیکی کی دعوت کے ذریعے سے دین اسلام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا ہے ۔ ہمارے اسلاف کی ایسی مدنی سوچ ہوا کرتی تھی کہ مرتے وقت بھی وہ اس کام کو نہیں چھوڑتے مالکیہ کے عظیم المرتبت پیشواء اور زبردست عاشق رسول صلي اللہ عليہ وسلم حضرت سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جنہوں نے اپنی تمام ترزندگی نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے میں بسرکی ۔ بستر مرگ پر بھی اس اہم فریضہ کو نہ بھولے۔ آخری وقت میں بھی اسلامی بھائیوں کو جو وصیت فرمائی اس میں نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے پر زور دیا۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کے آخری کلمات نقل کرتے ہوئے حضرت یحیٰ بن یحیٰ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ اسکے بعد امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے حضرت ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کی ایک روایت بیان کی ۔ کہ کسی شخص کو نماز کے مسائل بتانا روئے زمین کی تمام دولت صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور کسی شخص کی دینی الجھن دُور کردینا سو حج کرنے سے افضل ہے ۔ اور ابن شہاب زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کی روایت سے بتایا کہ کسی شخص کو دینی مشورہ دینا سو غزوات میں جہاد کرنے سے بہتر ہے۔ دیکھا آپ نے پیارے اسلامی بھائیو ہمارے بزرگان ِ دین رحمھم اللہ گویا اس بات کے مصداق تھے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔
الحمد للہ عزوجل نیکی کی دعوت دینے والوں اور برائی سے منع کرنے والوں سے اللہ عزوجل کس قدر راضی ہوتا ہے اور ان پر کس قدر رحمت خداوندی عزوجل کا نزول ہوتا ہے اور ان کو کس قدر انعامات عطا فرماتا ہے ۔ چنانچہ سیدنا امام غزالی رحمۃ