| نصابِ مدنی قافلہ |
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اوراس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ (عزوجل)کی طرف بُلائے اورنیکی کرے اورکہے میں مسلمان ہوں۔(پ ۲۴ ، ع ۱۸)
اس آیتِ مقدّسَہ میں فرمایا گیا ہے کہ اُس خوش نصیب کی بات اللہ عزوجل بے حد پسند کرتاہے جو خیرو بھلائی کی طرف بُلانے پر مبنی ہو ۔ جب کوئی مسلمان نیکی کی دعوت دیتا ہے تو اللہ عزوجل کی رحمت جوش میں آتی ہے ۔ چنانچہ :
سیدنا امام محمد غزالی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )فرماتے ہیں:۔ہربات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب !
حضرتِ موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا ،اے اللہ عزوجل ! جو اپنے بھائی کو بُلائے ۔ اُسے نیکی کا حکم کرے اور بُرائی سے روکے۔ اُس کی جزاکیاہے ؟ فرمایا ، '' میں اُس کی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیا آتی ہے '' ۔
(مکاشفۃ القلوب ص۴۸ دارالکتب العلمیہ بیروت)
نیکی کی دعوت دینے والوں کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنت کی بشارت عطا فرمائی ہے جیسا کہ حضرت ابوکثیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ'' مجھے ایسا عمل بتائيے جسے کرنے والا جنت میں داخل ہوجائے ۔''تو انہوں نے فرمایا کہ جب میں نے یہی سوال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ،''وہ شخص