Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
175 - 197
صلّو علی الحبیب     صلی اللہ تعالٰی علٰی محمّد
کسی کی د ینی الجھن دُ ور کرنا سو حج کرنے سے بہتر ہے ! مَذہَبِ مُہَذَّبْ مالِکِیّہ کے عظیمُ المرتبت پَیشوا اور زبردست عاشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وَ الہٖ وسلّم جنہوں نے اپنی تمام تر زندگی اَمْر بِا المَعْرُوْف وَ نَہی عَنِ الْمُنْکَر میں بسر کی بِسترِ مَرْگ پر بھی اس اَہم فریضہ کو نہ بھولے۔ آخری وقت بھی اسلامی بھائیوں کو جو وصیت فرمائی اس میں اَمْر بِا المَعْرُوْف وَ نَہی عَنِ الْمُنْکَرپر زور دیا۔ چنانچہ آپ کے آخری کلمات نقل کرتے ہوئے حضرتِ یحیٰ بن یحیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :۔ 

'' اس کے بعد حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے رَبیع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ایک روایت بیان کی ۔ کہ کسی شخص کو نماز کے مسائل بتانا رُوئے زمین کی تمام دولت صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔ اور کسی کی دینی الجھن دُور کردینا سو حج کرنے سے افضل ہے ۔ اور ابن ِ شہاب زُہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی روایت سے بتایا کہ کسی شخص کو دینی مشورہ دینا سو غزوات میں جہاد کرنے سے بہتر ہے ۔ یحیٰ بن یحیٰ رحمۃ اللہ کہتے ہیں اس گفتگو کے بعد امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے کوئی بات نہیں کی اور اپنی جان جانِ آفرین کے سُپرد کردی''۔
    (تذکرۃ المحدثین )
    حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ کے حقوق میں غفلت برتنے والا، حدوں کو توڑنے والا اور انہیں قائم رکھنے والا ان کی مثال کشتی کے تین مسافروں کی ہے ۔ جنہوں نے کشتی کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ایک نے سب سے اوپر والا ،دوسرے
Flag Counter