سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مومن کو اس کے عمل اورنیکیوں سے مرنے کے بعد بھی یہ چیزیں پہنچتی رہتی ہیں۔(۱)علم جس کی اس نے تعلیم دی اوراشاعت کی (۲) اولادِ صالح جسے چھوڑ کر مرا ہے (۳) مصحف (قرآن مجید) جسے میراث میں چھوڑا (۴)مسجد بنائی (۵)مسافر کے لیے مکان بنادیا (۶)لوگوں کے لیے نہر جاری کردی (۷)اپنی صحت اورزندگی میں اپنے مال میں سے صدقہ نکال دیاجو اس کے مرنے کے بعد اُس کو ملے گا۔
(سنن ابن ماجہ ص۲۲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قوم سے چار غلام آزاد کرنے سے یہ بات زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں کسی قوم کے ساتھ نماز فجر کے بعد بیٹھوں جو اللہ کا ذکر کرتی ہو یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ۔ میں چا ر غلام آزاد کرنے سے زیادہ اس بات کو پسند کرتاہوں کہ نماز عصر کے بعد ایسی قوم کے ساتھ بیٹھوں جو اللہ کا ذکر کرتی ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے
(سنن ابوداؤد ج۲ ص۱۶۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو شخص میری مسجد میں علم سیکھنے یا سکھانے کے لیے گیا وہ بھلائی کے ساتھ ہی لوٹے گا۔
(سنن ابن ماجہ ص۲۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بارحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارکہ سے مسجد میں تشریف لائے تو دو حلقے سجے ہوئے تھے ایک قرآن