Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
155 - 197
مدینہ۱۰:    لوگوں پر اثر نہ ہو تو ان کو سخت دل سمجھنے یا کہنے کی بجائے اپنے اخلاص کی کمی تصور کرکے استغفار کرے۔

مدینہ۱۱:    بیان ایک دم سنجیدہ ہوگا تو دل پر اثر کریگا اگر روایتی انداز مثلاً ! دوران بیان کہتے رہے بولو سبحان اللہ ! یا ادھوراجملہ کہہ کر اس انداز میں خاموش ہوئے کہ سامعین نے فقرہ پورا کیا یا بار بار کہتے رہے، کیا سمجھے؟ نہیں سمجھے آپ! سمجھ گئے نا؟

وغیرہ اسی طرح لطائف بیان کئے یاایسے فقرے کہے کہ لوگ ہنسنے لگے اس طرح حاضرین اگرچہ محظوظ ہوکر واہ واہ کرتے ہیں مگر تجربہ یہ ہے کہ اس سے صحیح معنوں میں خوف خدا و عشق مصطفی (عزوجل و صلي الله عليه وسلم   ) اور سوز و گداز حاصل ہونا مشکل ہوتا ہے۔ 

مدینہ۱۲:    علماء و مشائخ اہلسنت پر نہ بیان میں تنقید ہو نہ نجی گفتگو میں بلکہ دل میں بھی ان کا احترام لازم جانیں۔

مدینہ۱۳:    سیاسی پارٹیوں ، حکومت اور اس کے محکمے ، پولیس ، افواج، بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک اور اس کے معاملات پر تنقید نہ کرے کہ اس طرح اس محکمے یا ملک وغیرہ کی اصلاح کی امید کم اور دین کے کام میں رکاوٹیں کھڑی ہوجانے کا امکا ن زیادہ ہے۔
الغرض اپنے ان چار مدنی پھولوں :
    ۱) ارکان اسلام        ۲)اتباع سنت وعشق رسول صلي اللہ عليہ وسلم       

 ۳)حسن اخلاق        ۴) نیکی کی دعوت
پر ہی صدق دل اور خلوص نیت سے عمل پیرا رہے۔

مدینہ۱۴:بیان میں وقت کی پابندی کو ملحوظ رکھے اتناطویل بیان نہ کرے کہ لوگ گھبرا جائیں۔
Flag Counter