۳ ):اسی طرح لباس صاف ستھرا ہونا چاہے تاکہ کسی کو کراہیت محسوس نہ ہو۔
۴) :عمامہ بھی صاف ستھرا اور اچھے انداز سے باندھیں ، نیز داڑھی شریف اور زلفوں میں کنگھا کرلیں تاکہ دیکھنے والوں کے دل میں نفرت و کراہیت کی بجائے سنت کی محبت و رغبت پیدا ہو۔
فرمانِ امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ ہے''بیان کرنے والا دعوت اسلامی کے مخصوص مدنی لبا س وعمامہ شریف میں ہر وقت ملبو س رہنے والا ہو۔''
۵) : چیک کرلیں کہ گریبان کے بٹن کھلے ہوئے تو نہیں کیونکہ گریبان کے بٹن کھول کر رکھنا شریف لوگوں کا شیوہ نہیں۔گریبان کے اوپر تک بٹن بند کرنے میں اگر تکلیف محسوس نہ ہوتو بند کرلیں۔
۶): پائینچے سنت کے مطابق ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر ہونے چاہيں ، لیکن بیان کرتے وقت تو خصوصی طور پر اس کا خیال رکھیں۔ ورنہ نہ صرف اعتراض کا نشانہ بننا پڑے گا بلکہ کسی کے بدظن ہوکر بیان کی برکات سے محروم ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ یونہی کرتے کا دامن دیکھ لیں کہ کہیں شلوار یا پاجامے کے نیفے میں پھنسا ہوا تو نہیں؟
۷) :پسینہ آنے کی صورت میں عطر کا استعمال بھی کیا جائے۔
۸ ):منہ کی بدبو کو بھی زائل کیا جائے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان مدنی پھولوں پر عمل کرکے ہم بیان سے پہلے اپنے لباس و جسم کو دیکھ لیں کہ کوئی افراط وتفریط نہ رہ جائے۔