Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
147 - 197
 (ii) بیان کر نے سے پہلے ان با توں پر غور

کر لیا جائے
    شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ''ضیائے درود و سلام''میں فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نقل فرماتے ہیں :
    ''جبرائیل (علیہ السلام)نے مجھ سے عرض کیا کہ ربّ تعالیٰ فرماتاہے ، اے محمد ! کیا تم اِس بات پر راضی نہیں کہ تمہار ا امّتی تم پر ایک سلام بھیجے ، میں اُس پر دس سلام بھیجوں۔''
 (سُنن النسائی ج۱ ص۱۹۱قدیمی کتب خانہ باب المدینہ کراچی)
    صلوا علی الحبیب    	 صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد
۱) : اپنے پاؤں دیکھ لیجئے کہ ان پر میل تو نہیں جما ہوا؟ناخن بڑھے ہوئے تو نہیں؟ کیونکہ جب آپ بیان کرنے کے لئے کھڑے ہوں گے تو قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کی نگاہ آپ کے پیروں پر بھی پڑے گی اگر ان پر میل کی تہہ جمی ہوگی اورناخن بڑے ہونگے تو ان پر آپ کی شخصیت کا برا اثر قائم ہوگا، جس کا منفی اثر آپ کے بیان پر بھی پڑے گا۔ نیز جب بھی آپ کھڑے ہوں تو خیال رکھئے کہ دونوں پیرو ں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہو۔

۲) :یونہی بیان کے بعد عموماً  لوگ مصافحہ کرکے سنت پر عمل کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اگر آپ کے ہاتھ میلے کُچیلے اور ناخن بڑے بڑے اور میل زدہ ہوئے تو مصافحہ کرنے والے کے دل میں آپ کے متعلق کراہیت پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے باعث بیان کا اثر زائل یا کم ہوسکتا ہے لہٰذا ہاتھ بھی صاف ستھرے ہونے چاہيں۔
Flag Counter