مبلغین اس کا خاص خیال رکھیں۔
(2) بعض اوقات شروع میں اخلاص پیش ِنظر ہوتا ہے لیکن درمیان میں مذکورہ فاسد نیتیں داخل ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا درمیان میں بھی اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
(3) بیان کے بعد بھی یہ خواہش ہرگز پیدا نہ ہو کہ اب میرے بیان کی تعریف کی جائے لوگ میرے ہاتھ چومیں، اپنے علاقے میں میرا بیان کروانے کے لئے اصرار کریں، مجھ سے میرا نام و پتہ معلوم کیا جائے وغیرہ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم اخلاص کے ساتھ اپنی اصلاح کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو ایک دن ہم اپنے مدنی مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ان شآء اللہ عزوجل
امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں،''بیان کرنے والا صرف گفتار کا غازی نہ ہو بلکہ اپنے بیان پر عمل کرنے کا بھی ذہن رکھتاہو۔''کاش! ہم سب کاایسا ہی ذہن بن جائے اور ہم سب اپنی اصلاح کے لئے ہی بیان کرنے والے بن جائیں۔