Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
144 - 197
کہ لوگ میرے بیان کی تعریف یا میری واہ واہ کریں۔ کیونکہ جب اپنی اصلاح مقصود ہوگی تو تعریف کی خواہش ختم ہوجائے گی حقیقت یہ ہے کہ بیان اسی مبلغ  کا کامیاب ہوتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اللہ و رسول عزوجل و صلي اللہ عليہ وسلم کی رضا و خوشنودی کے لئے بیان کرتا ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں بھی اخلاص عطا فرمائے۔
                 آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
 (۲) اللہ عزوجل کی رضا مقصود ہو:
    فرمانِ امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ ہے''اِخلاص قبولیت کی کُنجی ہے۔''

    لہذا!بیان صرف اور صرف اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ہی کرنا چاہے کیونکہ مخلوق کو متاثر کرنے کے لئے بیان کرنے کی نحوست سے انسان نہ صرف گنہگار ہوتا ہے بلکہ اس کے باعث بیان کی تاثیر بھی بے حد متاثر ہوتی ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی مبلغ  کا پراثر بیان سن لیا تو نفس یہ چاہتا ہے میں بھی ایسا ہی بیان کرو ں پھر اس طرح کے بیانات کا مواد جمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔جس سے مقصود اپنی دھاک بٹھانا ہوتا ہے اور جب اس مبلغ کی طر ح بیان نہ کیا جاسکا تو حوصلے پست اور ولولے سرد پڑ جاتے ہیں۔بیان میں اخلاص کے بارے میں تین مواقع پر غور کرنا ضروری ہے۔
 (1)     ابتداء میں اپنے آپ سے سوال کریں کہ'' تو یہ بیان کس نیت کے ساتھ کررہا ہے۔ اللہ عزوجل کو راضی کرنے اور خدمتِدین کی نیت سے یا اس لئے کہ تیری عزت میں اضافہ ہو،لوگ تجھ سے متاثر ہوجائیں ، تیری تعریفیں کی جائیں، بعد ِبیان تجھے تعجب خیز نگاہوں سے دیکھا جائے وغیرہ''۔ پہلی مرتبہ کسی بڑے اجتماع میں بیان کرنے والے
Flag Counter