| نصابِ مدنی قافلہ |
سلسلے میں بیان کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ یقینا یہ انقلاب و تبدیلی ایسے بیان سے ظہور پذیر ہوگی جسے ہر زاويے سے جانچ پرکھ کر سپر د سامعین کیا گیا ہو۔ مذکورہ بالا حدیث پاک اور اس سے اخذ شدہ نتیجے کی روشنی میں یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں اپنی پیاری پیاری سنتوں کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کی ترقی و بقاء کی خاطر اپنے بیان کو بہتر بنانا، اس کی ادائیگی میں سستی اور کاہلی سے بچنا اور دیگر اسلامی بھائیوں میں اس کے لئے شعور و صلاحیت بیدار کرنا بے حد لازمی و ضروری ہے۔
لہٰذاہمیں مدنی قافلوں کو سفر کروانے کے لئے اور مدنی انعامات پر عمل کی ترغیب دلانے کے لئے اپنے بیان کو مضبوط کرنا ہوگا ۔بیان کرنے والے مبلغ کو چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔(۱) بیان کا مقصد اپنی اصلاح ہو:
اگر مبلغ کی بیان کرتے وقت یہ سوچ ہوکہ میں سامعین اسلامی بھائیوں کی اصلاح کے لئے بیان کررہا ہوں تو پھر وہ خود بیان کی برکت سے محروم ہوجائے گا۔ بیان کرتے وقت مبلغ کی کیا سوچ ہونی چاہے؟ اس سلسلے میں فرمان ِامیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ ملاحظہ فرمائیے کہ''مبلغ بیان کرتے وقت یہ نیت کرے کہ میں دوسروں کو نصیحت کرنے کی بجائے خود اپنے آپ کو سمجھا رہا ہوں۔''
لہذا ہمیں چاہيے کہ جب بھی بیان کرنے کی سعادت حاصل ہو تو اپنی اصلاح کی نیت سے بیان کريں۔ اس مدنی پھول سے ان شآء اللہ عزوجل بیان کے بعد مبلغ کے دل میں شیطان کی طرف سے بیدار ہونے والے اس وسوسے کی کاٹ بھی ہوجائے گی