(۹) درس کیلئے وہ نَمازمُنْتَخب کیجئے جس ميں زِيادہ سے زيادہ اسلامی بھائی شريک ہو سکيں۔
(۱۰) درْس والی نَماز اُسی مسجِد کی پہلی صَف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا فرمایئے۔
(۱۱) محراب سے ہٹ کر (صحن وغيرہ ميں )کوئی ايسی جگہ درس کیلئے مخصوص کر لیجئے جہاں ديگر نَمازيوں اورتلاوت کر نے والوں کو دُشواری نہ ہو۔
(۱۲) ذَیلی نگران کو چاہيے کہ اپنی مسجِد میں دوخیر خواہ مقَرَّر کرے جو درس (بیان ) کے موقع پر جانے والوں کو نرمی سے روکیں اورسب کو قریب قریب بٹھائیں۔
(۱۳) پردے ميں پردہ کيے دوزانو بيٹھ کر درْس دیجئے۔اگر سننے والے زيادہ ہوں تو کھڑے ہو کر يا مائيک پر دينے ميں بھی حرج نہيں جبکہ نَمازیوں وغیرہ کو تشویش نہ ہو۔
(۱۴) آواز زيادہ بُلند ہو اور نہ ہی بالکل آہستہ، حتّی الامکان اتنی آواز سے درس دیجئے کہ صِرْف حاضِرين سُن سکيں۔ بَہَر صورت نَمازیوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہے۔
(۱۵) درس ہميشہ ٹھہر ٹھہرکراور دھيمے انداز ميں دیجئے۔
(۱۶) جو کچھ دَرْس دينا ہے پہلے اس کا کم از کم ايک بار مطالعہ کرلیجئے تا کہ غَلَطِياں نہ ہوں۔
(۱۷) فیضانِ سنّت کے مُعَرَّب الفاظ اَعْراب کے مطابِق ہی ادا کیجئے اس طرح اِن شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ تَلَفُّظ کی دُرُست ادائيگی کی عادت بنے گی۔
(۱۸) حمد وصلوٰۃ، دُرُود و سلام کے چارو ں صيغے، آيتِ دُرُوداور اِختتامی آيات وغيرہ کسی سُنّی عالم یا قاری کوضَرور سنادیجئے۔ اسی طرح عَرَبی دُعائيں وغیرہ جب تک