صلوا علی الحبیب صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد
(۱) فرمانِ مصطَفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جو شخص ميری اُمّت تک کوئی اِسلامی بات پہنچائے تا کہ اُس سے سُنَّت قائم کی جائے يا اُس سے بد مذھبی دُور کی جائے تو وہ جنتَّی ہے۔
(حِلْيَۃُ الْاَوْلِياء ج۱۰ص۴۵رقم الحديث ۱۴۴۶۶طبعۃ دارالکتب العلميۃ بيروت)
(۲) سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمايا،'' اللہ تعالیٰ اسکو تروتازہ رکھے جو ميری حديث کو سنے ، ياد رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ۔''
(جامِع ترمذی ج۴ ص۲۹۸رقم الحديث ۳۶۶طبعۃ دارالفکر بيروت)
(۳) حضرتِ سیِّدُنااِدريس عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کے نام مبارَک کی ايک حِکمت يہ بھی ہے کہ آپ عليه السلام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عطا کر دہ صَحيفے لوگوں کو کثرت سے سُنايا کر تے تھے۔ لہٰذا آپ عليه السلام کا نام ہی اِدريس (يعنی درس دينے والا) ہو گيا۔
( تفسير بَغْوِی ج۳ص۱۹۹طبعۃ ملتان۔تفسير جمل ج۵ص۳۰طبعۃ قديمی کتب خانہ ۔خزائن