Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
128 - 197
مدینہ۲۴۔    لوگوں پر اثر نہ ہوتو اُن کو سخت دل سمجھنے اور کہنے کے بجائے اپنے 

        اخلاص کی کمی تصور کرکے استغفار کرے ۔

مدینہ۲۵۔    بیان ایک دم سنجیدہ ہوگا تو دل پر اثر کریگا اگر ''روایتی'' انداز مثلاً         دوارانِ بیان کہتے رہے بولو سبحان اللہ ! یا ادھورا جملہ کہہ کر اس 

        انداز میں خاموش ہوئے کہ سامعین نے فقرہ مکمل کیا یا بار بار 

        کہتے رہے کیا سمجھے ؟ نہیں سمجھے آپ ؟ سمجھ گئے نا۔۔۔؟وغیرہ ، اسی 

        طرح لطائف بیان کیے ، ایسے فقرے کہے کہ لوگ ہنسنے لگے ۔ اس 

        طرح حاضرین اگرچہ محظوظ ہوتے اورواہ واہ کرتے ہیں مگر تجربہ یہ 

        ہے کہ اس سے صحیح معنوں میں خوفِ خدا و عشق ِ مصطفی( عزوجل و 

        صلي الله عليه وسلم)اور سوز و گداز حاصل ہونا مشکل ہوتاہے ۔

مدینہ۲۶۔    علماء ومشائخ اہلسنت پر نہ بیان میں تنقید ہو او رنہ نجی گفتگو میں بلکہ دل میں بھی اُن کا احترام لازم جانے ۔

مدینہ۲۷۔    سیاسی پارٹیوں ، حکومت اور اس کے محکمے ، محکمهٔ پولیس ، افواج بلکہ 

        دنیا کے کسی بھی ملک اور اس کے معاملات پر تنقید نہ کرے کہ اس 

        طرح اس ملک ،اس محکمے یا ملک وغیرہ کی اصلاح کی امید کم اور 

        دین کے کام میں رکاوٹیں کھڑی ہونے کا امکان زیادہ ہے ۔ بس 

        اپنے ان چار مدنی پھولوں (۱) ارکانِ اسلام (۲) عشق ِ رسول 

        صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم (۳) حسنِ اخلاق اور(۴) نیکی کی دعوت کے گلدستے سے باہر نہ نکليں ۔