۳۱) ایسے افعال سے بچیں جس سے لوگ آپ سے بدظن ہوں۔
مثلاً اذان کے بعد بھی لیٹے رہنا ، ہلڑ بازی کرنا، شور مچانااور ہنسی مذاق میں لگے رہنا۔
۳۲) مسجد کی خیر خواہی کریں اور نمازیوں کو خیر خواہی کے ذریعے درس و بیان کے لئے نرمی سے روکیں۔
۳۳) دوپہر اور شام کے کھانے کے لئے سالن ایک ہی دفعہ بنایا جائے ،بازار میں کھانے کی اشیاء خریدنے کے لئے جائیں تو جلدی واپسی آئیں کیونکہ بازار کو شیطان کا گھر کہا گیا ہے۔
۳۴) اپنے کھانے میں مقامی اسلامی بھائیوں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ ان شآء اللہ عزوجل آپس میں بھائی چارہ قائم ہوگا۔
۳۵) تمام امور سُنّت کے مطابق کریں اگر کوئی خیر خواہی کر ے تو کھانا مسجد میں ہی کھائیں حتی الامکان کسی کے گھر پر نہ جائیں۔
۳۶) تمام نمازیں صفِ اول میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کریں ۔
۳۷) وقفہ آرام کے اختتام پراٹھاتے وقت پاؤں دباکر اٹھائیں۔
۳۸) سیکھنے سکھانے کے حلقوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور سب اسلامی بھائی تمام حلقوں میں شریک ہوں۔
۳۹) وہاں سے ہاتھوں ہاتھ اسلامی بھائیوں کو سفر پر روانہ کرنے کے لئے مقامی اسلامی بھائیوں کا ذہن بنائیں اور سب کو ہاتھوں ہاتھ سفر کی دعوت دیں۔
۴۰) واپسی پر حصولِ برکت کے لئے کسی مزار پر حاضری دیں۔
۴۱) آخری رات دعا کرائی جائے۔