Brailvi Books

نصابِ مدنی قافلہ
116 - 197
ہوں آپ علماء کرام سے رجوع کریں۔

۲۶) جب مطلوبہ علاقہ آجائے تو امیرِ قافلہ کی اجازت سے انتہائی نظم و ضبط سے اتریں۔ بازار سے گزرتے ہوئے اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں، نگاہیں نیچی رکھنا سرکار دوعالم صلي اللہ عليہ وسلم کی سنت کریمہ بھی ہے ۔ادھر ادھر دیکھنے کی وجہ سے بدنگاہی میں مبتلاء ہوجانے کا غالب امکان ہے ،
    محدث ابن جوزی علیہ الرحمۃ نقل فرماتے ہیں نظر (بد) ابلیس کے تیروں سے ایک زہریلا تیر ہے جس نے نامحرم سے آنکھ کی حفاظت نہ کی بروز قیامت اُس کی آنکھ میں جہنم کی سلائی پھیری جائے گی ۔
 (بحرالدموع لابن جوزی مترجم ص ۲۰۶)
۲۷) آپس میں مدنی مقصد یعنی ''مجھے اپنی اصلاح کی کوشش(مدنی انعامات پر عمل کر کے ) اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش (مدنی قافلوں میں سفر کرکے) کرنی ہے۔'' کے بارے میں گفتگو کریں یا ذکرو درود کرتے رہیں ۔ دو،دو کی قطار میں رفیق کے ہمراہ چلیں، راستہ میں جب بھی دعا پڑھیں لہجہ دھیمہ رکھیں۔

۲۸) مطلوبہ مسجدمیں پہنچ کر سیدھا قدم داخل کریں، دعا پڑھیں، نیتِاعتکاف بھی فرمائیں۔ سامان مسجد کے ایک کونے میں سمیٹ کر اوپر چادر وغیرہ ڈال کررکھیں۔

۲۹) امیر قافلہ مسجد انتظامیہ و امام صاحبان سے ملاقات کرکے قافلے کی آمدکی اطلاع دے، اور ذمہ دار سے ملاقات کرکے بھی فوراً اطلاع دی جائے۔ (مشورہ کرکے فوری تفصیلات بتاکر ذمہ دار یاں سونپی جائیں اور جدول پر عمل شروع کریں۔)

۳۰) مسجد کے کسی کام میں مداخلت نہ کریں حتیٰ کہ اذان و اقامت کی بھی اجازت طلب نہ کریں ، ازخود اجازت مل جائے تو حرج نہیں۔
Flag Counter