| نصابِ مدنی قافلہ |
پہلوؤں کی تعریف کرے اور ممکن ہو تو حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھائے کہ اس کی تجویز کے کون سے پہلو کن وجوہات کی بنا پر قابل عمل نہیں ۔
شرکائے قافلہ کا یہ بھی ذہن بنا یاجائے کہ جب ایک ہی موضوع پر مشورہ دینے والے کثیر ہوں تو ہر ایک کی رائے پر عمل ممکن نہیں ہوتالہٰذا کوئی بھی اسلامی بھائی اسے ہرگز انا کا مسئلہ نہ بنائے کہ میرا مشورہ کیوں نہیں ماناگیا؟۴) شرکائے قافلہ سے اچھا برتاؤ :
اچھا امیروہ ہی ہوتا ہے جو اللہ عزوجل کی رضا کواپنے پیش نظر رکھے،جو اپنے مقصد سے مخلص ہو ، اپنے زیر ِتربیت اسلامی بھائیوں سے پرخلوص محبت کرنے والا ہو، اپنے اسلامی بھائیوں کی تربیت کے لئے ہروقت کوشاں رہے اور ان کے دل میں ایسا گھر کر جائے کہ شریعت کے دائرے میں رہ کر انہیں خواہ کیسا ہی کام کرنے کو کہے وہ بے چون وچراں اس کے حکم کو بجا لائیں اور اگر کبھی کسی وجہ سے سخت لہجہ بھی اپنا بیٹھے تو وہ اسے اپنے لئے رحمت و شفقت سمجھیں اور انہیں اس بات کا کامل یقین ہو کہ ہمیں نصیحت کرنے والے کے غصہ اور ڈانٹ میں بھی ہماری بھلائی ہے۔
بعض امیر قافلہ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ شرکائے قافلہ اطاعت نہیں کرتے۔اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ امیر قافلہ کواطاعت کروانا ہی نہیں آتا ، ہر وقت حکم دینے کے انداز میں گفتگو کرنا، خود کو اسلامی بھائیوں سے برتر جاننا، اسلامی بھائیوں کی معمولی غلطیوں پر انہیں سخت الفاظ اور حقارت بھرے لہجہ میں ڈانٹنا وغیرہ یہ سب چیزیں مل کر شرکا ئے قافلہ کو امیر قافلہ سے متنفر کردیتی ہیں۔یاد رکھئے! کسی کی محبت اس کی اطاعت کرواتی ہے لہذا ضروری ہے کہ امیر قافلہ اور شرکائے قافلہ کے درمیان اخوت و محبت کا مضبوط رشتہ قائم ہو ۔اس کے علاوہ امیرِ قافلہ کو خود بھی جدول کی پابندی کرنے میں بے