حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ''کوئی قوم جب بھی آپس میں مشورہ کرتی ہے اللہ تعالیٰ اُسے ان کی افضل رائے کی طرف ہدایت دے دیتاہے ۔''
(تفسیر قرطبی الجز الرابع ص۱۹۳ دارالفکر بیروت)
مشورے سے پہلے امیرِ قافلہ تمام شرکاء کو اس بات کا ضرور احسا س دلائے کہ ہم ایک اہم مقصد کے لئے مدنی قافلے میں سفر کررہے ہیں لہذا ہم سب کو چاہے کہ سنجیدگی کادامن تھامے رکھیں ،پس کسی کی بات کاٹ کر درمیان میں بولنا یا کئی اسلامی بھائیوں کا ایک ساتھ بولنا یا گفتگو کے دوران طنز و مذاق کا سلسلہ شروع کردینا نہایت غیر مناسب بات ہے۔
امیرِ قافلہ کو چاہے کہ مشورہ کے دوران سب کی تجاویز توجہ سے سنے تاکہ اسلامی بھائیوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو کیونکہ اگر کسی کی تجویز یا مشورہ توجہ سے نہ سنا گیا تو ممکن ہے کہ وہ آئندہ مشورہ دینے سے ہی گریز کرے ۔ اس طرح امیر قافلہ اس کی فکری صلاحیتوں سے استفادہ نہ کر پائیں گے۔پھر اگرکسی کی تجویز قابل عمل نہ بھی ہوتو بھی اس کے اچھے