Brailvi Books

نصاب النحو
99 - 268
تنبیہ:

    اگر مفعول مطلق فعل کے معنی میں کوئی زیادتی نہ کرے بلکہ وہی مصدر ہو جس پر فعل دلالت کررہا ہے تووہ تاکید کے لیے ہوگا ۔جیسے:ضَرَبْتُ ضَرْباً۔ 

    اگرمفعول مطلق مضاف ہویااس کی صفت ذکر کی گئی ہوتووہ نوعیت کے لیے ہوگا۔ جیسے:
ضَرَبْتُ ضَرْبَ الْقَارِيْ
یا
ضَرَبْتُ ضَرْباً شَدِیْداً۔
    اور اگرفَعْلَۃٌ کے وزن پر ہویا اس کا تثنیہ ہو یا اسم ِعدد مضاف بمصدر ہو تو وہ عدد کے لیے ہوگا۔جیسے:
ضَرَبْتُ ضَرْبَۃ ً
یا
ضَرَبْتُ ضَرْبَتَیْنِ
یا
ضَرَبْتُ ثَلاَثَ ضَرْبَاتٍ۔
مفعول مطلق کے فعل عامل کا حذف:

    مفعول مطلق کے فعل عامل کوکبھی جوازاً اورکبھی وجوباً حذف کردیاجاتاہے۔

جوازا حذف کی صورت:

    جب فعل محذوف پر کوئی قرینہ موجودہوتواسے حذف کرناجائز ہے۔ جیسے کسی آنے والے سے خَیْرَ مَقْدَمٍ کہاجائے تو اس سے پہلے قَدِمْتَ فعل محذوف ہوگا، اصل عبارت یوں ہوگی:
قَدِمْتَ قُدُوْماً خَیْرَ مَقْدَمٍ۔
وجوبا حذف کی صورت:

    خیال رہے کہ مفعول مطلق کے فعل عامل کا وجوبا ً حذف دو طرح ہے:

(۱) ۔۔۔۔۔۔سماعاً         (۲)۔۔۔۔۔۔ قیاساً.

سماعاً وجوب حذف کا مفہوم:

    جس مفعول مطلق کے فعل عامل کو ذکرکرنااہل عرب سے اصلاً مسموع نہ ہو وہاں اس کا
Flag Counter