(میں نے زیدکو مارا) ۔
مفعول بہ کی اقسام
اس کی دو قسمیں ہیں: ۱۔صریح. ۲۔غیر صریح.
۱۔صریح کی تعریف:
وہ اسم جو بغیر تاویل کے اور بلاواسطہ حرفِ جر مفعول بہ واقع ہو۔ جیسے:أَکَلْتُ خُبْزاً، رَأَیْتُہ،۔
۲۔غیر صریح کی تعریف:
وہ اسم جوبتاویل یابواسطہ حرف ِجر مفعول بہ واقع ہو۔اس کی چند صورتیں ہیں:
۱۔ جملہ مفرد کی تاویل میں ہوکر مفعول بہ بنے ۔جیسے:عَلِمْتُ أَنَّکَ عَالِمٌ۔
۲۔ جملہ مصدر کی تاویل میں ہو کر مفعول بہ بنے۔ جیسے:
زَعَمْتُ أَنْ تَفُوْزَ۔
۳۔ کوئی اسم حرف ِجر کے واسطے سے مفعول بن رہا ہو۔ جیسے:
(اَنعَمۡتَ عَلَیۡہِم) ۔
فائدہ:
۱۔مفعول صریح وغیر صریح بعض اوقات ایک ہی جملے میں اکٹھے آجاتے ہیں۔ جیسے:(أَدُّوْا الْأَمَانَاتِ اِلٰی أَھْلِھَا )
اس میں أَمَانَاتِ مفعول بہ صریح اورأَھْلِھَا مفعول بہ غیر صریح ہے ۔
۲۔ایک فعل کے ایک سے زائد مفعول بہ بھی ہوسکتے ہیں ۔ جیسے: أَعْطَیْتُ زَیْداً