Brailvi Books

نصاب النحو
95 - 268
سبق نمبر: 26

      (۔۔۔۔۔۔مفعول بہ کا بیان۔۔۔۔۔۔)
مفعول بہ کی تعریف:

    وہ اسم جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ جیسے:
ضَرَبْتُ زَیْداً
 (میں نے زیدکو مارا) ۔

مفعول بہ کی اقسام

    اس کی دو قسمیں ہیں:    ۱۔صریح.      ۲۔غیر صریح. 

۱۔صریح کی تعریف:

    وہ اسم جو بغیر تاویل کے اور بلاواسطہ حرفِ جر مفعول بہ واقع ہو۔ جیسے:
أَکَلْتُ خُبْزاً، رَأَیْتُہ،۔
۲۔غیر صریح کی تعریف:

    وہ اسم جوبتاویل یابواسطہ حرف ِجر مفعول بہ واقع ہو۔اس کی چند صورتیں ہیں:

    ۱۔ جملہ مفرد کی تاویل میں ہوکر مفعول بہ بنے ۔جیسے:
عَلِمْتُ أَنَّکَ عَالِمٌ۔
    ۲۔ جملہ مصدر کی تاویل میں ہو کر مفعول بہ بنے۔ جیسے:
زَعَمْتُ أَنْ تَفُوْزَ۔
    ۳۔ کوئی اسم حرف ِجر کے واسطے سے مفعول بن رہا ہو۔ جیسے:
 (اَنعَمۡتَ عَلَیۡہِم) ۔
فائدہ:

    ۱۔مفعول صریح وغیر صریح بعض اوقات ایک ہی جملے میں اکٹھے آجاتے ہیں۔ جیسے:
(أَدُّوْا الْأَمَانَاتِ اِلٰی أَھْلِھَا )
اس میں أَمَانَاتِ مفعول بہ صریح اورأَھْلِھَا مفعول بہ غیر صریح ہے ۔

    ۲۔ایک فعل کے ایک سے زائد مفعول بہ بھی ہوسکتے ہیں ۔ جیسے: أَعْطَیْتُ زَیْداً
Flag Counter