البتہ درج ذیل صورتوں میں اسے فاعل پر مقدم کرنا واجب ہے:
۱۔ جب فاعل کے ساتھ ایسی ضمیر متصل ہو جو مفعول بہ کی طرف لوٹ رہی ہو۔ جیسے :
(اِبْتَلٰی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ)
(ابراہیم کو ان کے رب نے آزمایا)
۲۔ جب مفعول بہ ضمیر متصل اور فاعل اسم ظاہرہو۔ جیسے:
۳۔ جب مفعول بہ ایسا کلمہ ہو جسے کلام کی ابتداء میں لانا ضروری ہو ۔مثلاً استفہام اور شرط۔ جیسے:
مَنْ رَأَیتَ؟ مَنْ تُکْرِمْ یُکْرِمْکَ
(جس کی تو عزت کریگاوہ تیری عزت کریگا)۔
مفعول بہ کے فعل کاحذف:
مفعول بہ کے فعلِ عامل کو کبھی جوازاً اورکبھی وجوبا ًحذف کردیا جاتاہے۔
جوازاً حذف کی صورت:
جب فعل محذوف پر قرینہ موجود ہومگراس کاقائم مقام نہ پایاجائے تواس کا حذف