Brailvi Books

نصاب النحو
96 - 268
دِرْھَماً، أَعْلَمْتُ زَیْداً بَکْراً فَاضِلاً۔
    ۳۔جس فعل کے دویا تین مفعول ہوں اسے مجہول بنانے کی صورت میں پہلے مفعول کو نائب الفاعل اورباقی کو مفعول بہ بنایا جاتاہے۔ جیسے:
أُعْطِیَ زَیْدٌ دِرْھَماً، أُعْلِمَ زَیْدٌ بَکْراً فَاضِلاً۔
مفعول بہ کی تقدیم:

    اصل یہ ہے کہ مفعول بہ ،فعل اور فاعل کے بعد آئے ۔ مگر کبھی یہ فاعل سے اورکبھی فعل سے بھی پہلے آجاتاہے۔ جیسے:
ضَرَبَ عَمْروًا زَیْدٌ
اور
زَیْداً ضَرَبْتُ۔
البتہ درج ذیل صورتوں میں اسے فاعل پر مقدم کرنا واجب ہے:

    ۱۔ جب فاعل کے ساتھ ایسی ضمیر متصل ہو جو مفعول بہ کی طرف لوٹ رہی ہو۔ جیسے :
 (اِبْتَلٰی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ)
 (ابراہیم کو ان کے رب نے آزمایا) 

    ۲۔ جب مفعول بہ ضمیر متصل اور فاعل اسم ظاہرہو۔ جیسے:
ضَرَبَنِیْ زَیْدٌ ۔
     ۳۔ جب مفعول بہ ایسا کلمہ ہو جسے کلام کی ابتداء میں لانا ضروری ہو ۔مثلاً استفہام اور شرط۔ جیسے:
مَنْ رَأَیتَ؟ مَنْ تُکْرِمْ یُکْرِمْکَ
 (جس کی تو عزت کریگاوہ تیری عزت کریگا)۔

مفعول بہ کے فعل کاحذف:

    مفعول بہ کے فعلِ عامل کو کبھی جوازاً اورکبھی وجوبا ًحذف کردیا جاتاہے۔

جوازاً حذف کی صورت:

    جب فعل محذوف پر قرینہ موجود ہومگراس کاقائم مقام نہ پایاجائے تواس کا حذف
Flag Counter