فائدہ: ۱
خیال رہے کہ الغاء اور تعلیق میں دوطرح سے فرق ہے : (۱)الغاء کا مطلب ہے افعال قلوب کے عمل کو لفظاً اور معنی دونوں طرح باطل کردینا اور تعلیق کا مطلب ہے ان کے عمل کو صرف لفظاًباطل کردینا۔(۲) الغاء صرف جائز ہے واجب نہیں لہٰذا الغاء کی جو دوصورتیں اوپر ذکر کی گئی ہیں ان میں یہ بھی جائز ہے کہ افعال قلوب کوعمل دیاجائے۔جیسے:زَیْداً عَالِماً عَلِمْتُ
یا
زَیْداً عَلِمْتُ عَالِماً۔
جبکہ تعلیق واجب ہے لہٰذا تعلیق کی مذکورہ صورتوں میں یہ جائز نہیں کہ افعال قلوب کو عمل دیاجائے۔
فائدہ: ۲
لفظاً اور معنی عمل کا باطل ہونا تو ظاہر ہے ۔صرف لفظاً عمل کے باطل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں مبتدأ وخبر معنی منصوب ہوں گے لہٰذا نصبِ جزئین کے ساتھ ایک اور جملہ اسمیہ کا اس پر عطف کرنا جائز ہوگا۔جیسے:عَلِمْتُ لَزَیْدٌ قَائِمٌ وَبَکْراً قَاعِداً۔
تنبیہ:
خیال رہے کہ جبظَنَنْتُ
بمعنی
اِتَّھَمْتُ، عَلِمْتُ
بمعنی
عَرَفْتُ، رَأَیْتُ
بمعنی
أَبْصَرْتُ
اور
وَجَدْتُ
بمعنی
أَصَبْتُ
ہوتو یہ افعال ،متعدی بیک مفعول ہوں گے نیز اس صورت میں یہ افعال قلوب نہیں کہلائیں گے۔جیسے:
ظَنَنْتُ زَیْداً
(میں زید پروہم کیا)
عَلِمْتُ زَیْداً
(میں نے زید کو پہچان لیا)
رَأَیْتُ زَیْداً
(میں نے زید کو دیکھ لیا)
وَجَدْتُ الضَالَّۃَ
(میں نے گم شدہ چیز کو پالیا)