معنی پایاجاتاہے اور ان معا نی کا تعلق دل سے ہے نہ کہ دوسرے اعضاء سے اس لیے انہیں ''افعال قلوب''کہا جاتا ہے ۔نیز انہیں''افعالِ شک ویقین''بھی کہتے ہیں ؛ کیونکہ ان میں سے بعض افعال شک (ظن)اور بعض افعال یقین پر دلالت کرتے ہیں۔
افعال قلوب کا عمل:
یہ افعال جملہ اسمیہ پرداخل ہوکر اس کے دونوں اجزاء (مبتدأ وخبر ) کو مفعول ہونے کی وجہ سے نصب دیتے ہیں ۔جیسے مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے۔
افعال قلوب کے احکام:
(۱)۔۔۔۔۔۔ افعال قلوب کے دونوں مفعولوں میں سے کسی ایک کو حذف کرنا ناجائز ہے اگر حذف کرنے ہوں تو دونوں کیے جاتے ہیں ورنہ دونوں کو ذکر کیا جاتا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ بعض صورتوں میں افعال قلوب کاعمل لفظاً و معنی دونوں طرح باطل ہوجاتاہے اسے''الغاء'' کہتے ہیں اور بعض صورتوں میں صرف لفظاً عمل باطل ہوجاتاہے اسے'' تعلیق '' کہتے ہیں۔ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
دوصورتوں میں افعال قلوب کا عمل لفظاً اور معنی باطل ہوجاتاہے :
۱۔جب افعال قلوب مبتدأ و خبر سے مؤخر آئیں ۔جیسے: