(۱)عَلِمْتُ (۲)رَأَیْتُ (۳)وَجَدْتُ (۴)ظَنَنْتُ (۵)حَسِبْتُ (۶)خِلْتُ (۷)زَعَمْتُ۔
ان میں سے پہلے تین افعال یقین پر دلالت کرتے ہیں ۔جیسے:
عَلِمْتُ، رَأَیْتُ، وَجَدْتُ زَیْداً فَاضِلاً۔
ان سب کا مطلب ایک ہی ہے کہ میں نے زید کو فاضل یقین کیا۔
اور ان کے بعدکے تین افعال ظن پر دلالت کرتے ہیں ۔جیسے:
ظَنَنْتُ، حَسِبْتُ، خِلْتُ زَیْداً شَاعِراً۔
ان سب کا مطلب ایک ہی ہے کہ میں نے زید کو شاعر گمان کیا۔
اورزَعَمْتُ مشترک ہے یعنی کبھی یقین کے لیے آتاہے ۔جیسے:
زَعَمْتُ بَکْراً مُنْجِماً
(میں نے بکر کو نجومی جانا)اورکبھی ظن پردلالت کرتاہے۔جیسے :
زَعَمْتُ عَمْروًا مُہَنْدِساً''
میں نے عمرو کو انجینئرگمان کیا''۔
وجہ تسمیہ:
قلوب قلب کی جمع ہے اور قلب کا معنی ہے ''دل''۔ چونکہ ان افعال میں یقین وظن کا