Brailvi Books

نصاب النحو
92 - 268
سبق نمبر: 25 

      (۔۔۔۔۔۔افعال قلوب کا بیان۔۔۔۔۔۔)
افعال قلوب کی تعریف: 

    وہ افعال جو شک ویقین پر دلالت کرتے ہیں ۔جیسے :
عَلِمْتُ زَیْداً فَاضِلاً
 (میں نے زید کو فاضل یقین کیا)

افعال قلوب کی تعداد:

    یہ کل سات افعال ہیں :
 (۱)عَلِمْتُ (۲)رَأَیْتُ (۳)وَجَدْتُ (۴)ظَنَنْتُ (۵)حَسِبْتُ (۶)خِلْتُ (۷)زَعَمْتُ۔
    ان میں سے پہلے تین افعال یقین پر دلالت کرتے ہیں ۔جیسے:
عَلِمْتُ، رَأَیْتُ، وَجَدْتُ زَیْداً فَاضِلاً۔
ان سب کا مطلب ایک ہی ہے کہ میں نے زید کو فاضل یقین کیا۔ 

    اور ان کے بعدکے تین افعال ظن پر دلالت کرتے ہیں ۔جیسے:
ظَنَنْتُ، حَسِبْتُ، خِلْتُ زَیْداً شَاعِراً۔
ان سب کا مطلب ایک ہی ہے کہ میں نے زید کو شاعر گمان کیا۔

    اورزَعَمْتُ مشترک ہے یعنی کبھی یقین کے لیے آتاہے ۔جیسے:
زَعَمْتُ بَکْراً مُنْجِماً
 (میں نے بکر کو نجومی جانا)اورکبھی ظن پردلالت کرتاہے۔جیسے :
زَعَمْتُ عَمْروًا مُہَنْدِساً''
میں نے عمرو کو انجینئرگمان کیا''۔ 

وجہ تسمیہ:

     قلوب قلب کی جمع ہے اور قلب کا معنی ہے ''دل''۔ چونکہ ان افعال میں یقین وظن کا
Flag Counter