Brailvi Books

نصاب النحو
86 - 268
لَاطَالِعاً جَبَلاً مَوْجُوْدٌ۔
 (کوئی بھی پہاڑ پرچڑھنے والا موجود نہیں)اس صورت میں یہ تنوین کے ساتھ منصوب ہو گا۔

    (۳)۔۔۔۔۔۔نکرہ ہونے سے مراد یہ ہے معرفہ نہ ہو اورمفرد ہونے سے مراد یہ ہے کہ مضاف یامشابہ مضاف نہ ہو۔ جیسے:
لَا رَجُلَ مَوْجُوْدٌ
 (کوئی بھی مرد موجود نہیں ہے)اس صورت میں یہ مبنی بر فتح ہوگا۔ 

    (۴)۔۔۔۔۔۔اگر اس کا اسم معرفہ ہوتودوسرے معرفہ کے ساتھ لَا کا تکرار ضروری ہے ۔ جیسے:
لَا زَیْدٌ شَاعِرٌ وَلَا بَکْرٌ
 (نہ زید شاعرہے اور نہ بکر)اس صورت میں لَا کوئی عمل نہیں کریگا اوراس کے بعد آنے والے دونوں اسم مبتدأ وخبرہونے کی وجہ سے مرفوع ہوں گے۔

    (۵)۔۔۔۔۔۔اگرلائے نفی جنس کے بعداسم نکرہ ہواوردوسرے نکرہ کے ساتھ لَا کاتکرار ہو تو مابعد اسم کو مرفوع اور منصوب دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ جیسے:
لَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ
اسے
لَارَفَثٌ وَلَا فُسُوْقٌ
بھی پڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
لَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ
میں پانچ صورتیں جائز ہیں۔ اگرپہلے اسم نکرہ کو فتحہ دیں تو دوسرے پر فتحہ، نصب اور رفع تینوں جائز ہیں ۔ جیسے:
لاَحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ، قُوَّۃً، قُوَّۃٌ اِلاَّ بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ،
اور اگر پہلے اسم کو رفع دیں تو دوسرے کو رفع اور فتحہ دینا جائز ہیں۔ جیسے:
لَاحَوْلٌ وَلَا قُوَّۃٌ، قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللَّہِ۔
    (۶)۔۔۔۔۔۔جب بھی لَاکے بعدلفظ'' بُدَّ'' آجائے تو وہ''لا'' لائے نفی جنس اوربُدَّ اس کا اسم ہوگا ۔ جیسے:
لَا بُدَّ لِلْعَالِمِ مِنَ الْعِلْمِ۔
    (۷)۔۔۔۔۔۔قرینہ موجود ہو تو لَا کے اسم کو حذف کردیناجائزہے۔ جیسے: لَا عَلَیْکَ یہ اصل میں لَا بَأْسَ عَلَیْکَ ہے،حذف اسم پر قرینہ یہ ہے کہ لائے نفی جنس اسم پر داخل
Flag Counter