Brailvi Books

نصاب النحو
85 - 268
سبق نمبر: 23 

      (۔۔۔۔۔۔لائے نفی جنس کا بیان۔۔۔۔۔۔)
لائے نفی جنس کی تعریف:

    وہ حرف جواپنے بعد واقع ہونے والی جنس سے خبر کی نفی کرتاہے۔جیسے: (لَارَیْبَ فِیْہِ) (اس میں کوئی شک کی جگہ نہیں) 

    اس آیت کریمہ میں لفظ''لا''نے قرآن کریم سے جنس ریب کی نفی کردی اور ظاہر کردیاکہ یہ کتاب عظیم اصلا محل شک نہیں۔

اس کے اسم اور خبر کے احکام:

    ۱۔لائے نفی جنس جملہ اسمیہ پرداخل ہوتاہے مبتدأکو ''لَاکااسم'' اورخبر کو''لَاکی خبر'' کہتے ہیں۔ جیسے:آیت کریمہ میں''رَیْبَ'' لائے نفی جنس کا اسم اور ''فِیْہِ'' اس کی خبر ہے۔ 

    ۲۔اس کے اسم اور خبر کے وہی احکام ہیں جومبتدأ وخبر کے ہیں۔

    ۳۔اس کی خبرہمیشہ مرفوع ہوتی ہے۔ جیسے:
لاَسُرُوْرَ دَائِمٌ۔
مگر اس کے اسم کی تین صورتیں ہیں : ۱۔مضاف ہو۔ ۲۔مشابہ مضاف ہو۔ ۳۔مفردنکرہ ہو۔

    (۱)۔۔۔۔۔۔مضاف ہونے سے مراد یہ ہے کہ کسی دوسرے کلمہ کی طرف اس کی اضافت کی گئی ہو۔ جیسے:
لَا غُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ
 (مرد کا کوئی غلام ذہین نہیں) اس صورت میں یہ بغیرتنوین کے منصوب ہوگا؛ کیونکہ مضاف پر تنوین نہیں آتی۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔مشابہ مضاف ہونے سے مراد یہ ہے کہ مضاف تونہ ہولیکن وہ ایسا کلمہ ہوجو اپنا
معنی دینے میں مضاف کی طرح مابعد کا محتاج ہو۔ جیسے:
Flag Counter