۳۔ جب یہ اپنے اسم اور خبر سے ملکر مبتدأ بنے۔جیسے:
عِنْدِیْ أَنَّکَ قَائِمٌ۔
۴۔ جب یہ اپنے اسم اور خبر سے ملکر مضاف الیہ بنے ۔جیسے:
عَجِبْتُ مِنْ طُوْلِ أَنَّکَ قَائِمٌ۔
۵۔ جب یہ عَلِمَ ، شَھِدَ یا ان کے مشتقات کے بعد آئے اور اس کی خبر پر لام مفتوح نہ ہو۔ جیسے:
أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ۔
۶۔ جب یہ حرف کے بعد آئے۔ جیسے:
أَعْلَمْتُہ، لِأَنَّہ، جَاھِلٌ۔
فائدہ:
إِنَّاپنے اسم وخبر سے ملکر مکمل جملہ بن جاتاہے۔ اورجملہ میں تاکید کے علاوہ کوئی اور تبدیلی نہیں کرتا، جبکہ أَنَّ اپنے اسم اورخبر سے ملکر مکمل جملہ نہیں بنتابلکہ جملے کا جزء بنتاہے۔
سو ال نمبر1: مندرجہ ذیل جملوں میں کہاں اِنَّ اور کہاں اَنَّ پڑھا جائے گا ؟
۱۔قَالَ انِّیْ عَبْدُ اللہِ ۲۔جَاءَ الَّذِیْ انَّ اَخَاہ، صَالِحٌ۔ ۳۔وَاللہِ انَّکَ لَصَادِقٌ۔ ۴۔عِنْدِیْ انَّکَ قَائِمٌ۔ ۵۔عَجِبْتُ مِنْ انَّ بَکْرًا قَائِمٌ۔ ۶۔بَلَغَنِیْ انَّ عَاطِفًا طَالِبُ الْعِلْمِ۔ ۷۔
( اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ )